پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے زمبابوے ویمنز کرکٹ ٹیم کے خلاف 3 میچوں پر مشتمل ٹی ٹوئنٹی سیریز کے لیے قومی خواتین اسکواڈ کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ یہ اعلان پی سی بی کی جانب سے ایک پریس ریلیز کے ذریعے کیا گیا، جس میں تمام کھلاڑیوں کے ناموں کی تصدیق کر دی گئی۔ فیصلہ کن اور پراعتماد انداز میں فاطمہ ثناء کو بدستور ٹیم کی قیادت سونپی گئی ہے، جبکہ بسمہ معروف نائب کپتان کے فرائض انجام دیں گی۔ یہ سیریز 12 سے 15 مئی تک نیشنل بینک اسٹیڈیم، کراچی میں منعقد ہوگی۔ تمام میچز شام ساڑھے 7 بجے فلڈ لائٹس میں کھیلے جائیں گے، جس کی وجہ سے شائقین کو شام کے اوقات میں کرکٹ سے لطف اندوز ہونے کا موقع ملے گا۔
اسکواڈ میں سب سے اہم اور دلچسپ تبدیلی یہ ہے کہ عنبر کائنات کو واحد ان کیپڈ کھلاڑی کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔ عنبر کائنات نے حالیہ نیشنل ویمنز ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ میں شاندار اور یادگار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے صرف 7 میچوں میں 11 وکٹیں حاصل کی تھیں۔ ان کی لیگ اسپن گیند بازی نہایت مؤثر ثابت ہوئی تھی، جس کی بدولت انہیں سلیکٹرز کی جانب سے انعام کے طور پر قومی ٹیم میں جگہ دی گئی۔ عنبر کائنات کا تعلق لاہور سے ہے اور وہ 22 سال کی نوجوان آل راؤنڈر ہیں، جو نچلے مڈل آرڈر میں مفید رنز بھی بنا سکتی ہیں۔ انہیں ٹیم میں شامل کرنے کا مقصد مستقبل کے عالمی ایونٹس کے لیے اسپن ڈیپارٹمنٹ کو مضبوط کرنا ہے۔
فاطمہ ثناء، جو پہلے ہی ایک مکمل آل راؤنڈر کے طور پر ٹیم کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، نے گزشتہ دو سیریز میں قیادت کے شاندار جوہر دکھائے تھے۔ ان کی کپتانی میں پاکستان ویمنز نے جنوبی افریقہ کے خلاف ہوم سیریز میں 1-1 سے مقابلہ کیا تھا اور نیوزی لینڈ کے خلاف بھی ٹیم نے بہتر کرکٹ کھیلی تھی۔ فاطمہ ثناء خود بھی گیند اور بیٹ دونوں سے رنز اور وکٹیں حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ان کے ہمراہ معروف بلے باز بسمہ معروف، جو پاکستان ویمنز کرکٹ کی سب سے کامیاب بلے باز ہیں، موجود ہیں۔ بسمہ نے اب تک 150 سے زائد انٹرنیشنل میچز کھیلے ہیں اور ان کے پاس تجربے کی کوئی کمی نہیں ہے۔ اس کے علاوہ تجربہ کار وکٹ کیپر بلے باز صدف شمس بھی ٹیم کا حصہ ہیں، جو نچلے مڈل آرڈر میں دھماکہ خیز بیٹنگ کرنے کے ساتھ ساتھ اسٹمپ کے پیچھے بھی مہارت رکھتی ہیں۔

لیگ اسپنر نشرہ سندھو کو بھی برقرار رکھا گیا ہے، جنہوں نے گزشتہ ایک سال میں 20 سے زائد وکٹیں حاصل کی ہیں۔ ان کی گرد کی گیندیں اکثر بلے بازوں کو الجھا دیتی ہیں۔ تیز رفتار بولنگ میں ڈائینہ بیگ اور توبہ حسن کو برقرار رکھا گیا ہے۔ ڈائینہ بیگ کا کیریئر ابھی ابتدائی مراحل میں ہے لیکن انہوں نے 140 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند بازی کرنے کی صلاحیت ظاہر کی ہے۔ توبہ حسن بائیں ہاتھ کی میڈیم پیسر ہیں جو سوئنگ کے ذریعے وکٹیں لیتی ہیں۔ ان کے علاوہ عمائمہ سہیل، جو آف اسپنر ہیں، اور نتالیہ پرویز، جو بائیں ہاتھ کی اسپنر ہیں، ٹیم کا حصہ ہیں۔ غلام فاطمہ اور جویریہ خان بھی مڈل آرڈر میں بیٹنگ کی ذمہ داری سنبھال سکتی ہیں۔ سدرہ امین، جو اوپنر ہیں، کو بھی اسکواڈ میں جگہ دی گئی ہے۔
یہ سیریز اگرچہ آئی سی سی ویمنز چیمپئن شپ کا حصہ نہیں ہے (یہ صرف دو طرفہ سیریز ہے)، لیکن یہ پاکستان ویمنز کے لیے آئندہ ورلڈ کپ کوالیفائرز اور ایشیا کپ سے قبل اپنی کمزوریوں کو دور کرنے کا سنہری اور انتہائی اہم موقع ہے۔ زمبابوے کی ٹیم اگرچہ آئی سی سی کی درجہ بندی میں پاکستان سے نیچے ہے (پاکستان 7ویں اور زمبابوے 12ویں نمبر پر ہے)، لیکن ان کے پاس میری-این مسونڈا، جو کہ ایک جارحانہ بلے باز ہیں، اور سکیندر رضا سے متاثر خواتین کھلاڑیوں کی کمی نہیں ہے۔ زمبابوے کی کپتان میری-این مسونڈا خود بھی ایک آل راؤنڈر ہیں اور انہوں نے حال ہی میں آئرلینڈ کے خلاف سنچری اسکور کی تھی۔ زمبابوے کی ٹیم میں جوزفین نکومو اور لورین فری جیسی تجربہ کار کھلاڑیاں بھی شامل ہیں جو کسی بھی دن میچ کا رخ موڑ سکتی ہیں۔
نیشنل بینک اسٹیڈیم، کراچی کی پچ اور حالات کا جائزہ لیا جائے تو عام طور پر یہ پچ بلے بازوں کے لیے مددگار ہوتی ہے۔ یہاں کی اوسط ٹی ٹوئنٹی سکور 150 سے 170 رنز کے درمیان رہا ہے۔ لیکن جیسے جیسے شام ڈھلتی ہے، اسپنرز کو بھی معاون رپٹ ملتا ہے، خاص طور پر دوسری اننگز میں جب سطح قدرے آہستہ ہو جاتی ہے۔ شام ساڑھے 7 بجے شروع ہونے والے میچز میں اوس (dew) کا عنصر انتہائی اہم ہوگا۔ اگر اوس پڑتی ہے تو فیلڈنگ کرنے والی ٹیم کو گیند گیلی ہونے کی وجہ سے اسپن اور گرفت میں مشکل پیش آتی ہے، جس کے پیش نظر ٹاس کا کردار کلیدی ہوگا۔ ٹاس جیتنے والی ٹیم ممکنہ طور پر پہلے بیٹنگ کرنا پسند کرے گی تاکہ اوس سے بچا جا سکے، یا اگر اوس زیادہ ہو تو پہلے فیلڈنگ کر کے اس کا فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔

ماضی میں پاکستان اور زمبابوے ویمنز کے درمیان 10 ٹی ٹوئنٹی میچز ہوئے ہیں، جن میں سے پاکستان نے 8 جیتے اور زمبابوے نے صرف 2۔ زمبابوے کی دونوں جیتیں ہرارے میں ملی تھیں، جبکہ پاکستان میں زمبابوے کبھی کامیاب نہیں ہوا۔ پاکستان کو اس سیریز میں کلین سوئپ (3-0) کی توقع ہے، لیکن کرکٹ میں حتمی کچھ نہیں، خاص طور پر جب زمبابوے نے حال ہی میں تھائی لینڈ اور یوگنڈا کے خلاف اچھی کارکردگی دکھائی ہے۔
ممکنہ پلےنگ الیون کے بارے میں بات کی جائے تو توقع ہے کہ پاکستان مندرجہ ذیل کھلاڑیوں کو میدان میں اتار سکتا ہے: سدرہ امین اور منیبہ علی اوپننگ کریں گی، بسمہ معروف تیسرے نمبر پر بیٹنگ کرنے آئیں گی، فاطمہ ثناء چوتھے نمبر پر خود کو پروموٹ کر سکتی ہیں، اس کے بعد علیہ ریاض، صدف شمس (وکٹ کیپر)، عمائمہ سہیل، نشرہ سندھو، ڈائینہ بیگ، توبہ حسن اور عنبر کائنات۔ اگر پچ اسپنرز کے لیے زیادہ مددگار ہو تو نتالیہ پرویز کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔
کپتان فاطمہ ثناء نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: “عنبر کائنات جیسی نوجوان صلاحیتوں کو موقع دینا ہمارے مستقبل کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ ہم ہر میچ جیتنے کے پختہ ارادے سے میدان میں اتریں گے اور اپنے ہوم گراؤنڈ پر زمبابوے کو شکست دینا ہمارا اولین ہدف ہے۔ ہم نے زمبابوے کی ٹیم کا مکمل تجزیہ کر لیا ہے اور خاص طور پر ان کی اوپننگ جوڑی کو جلد آؤٹ کرنے کی حکمت عملی بنائی ہے۔” پی سی بی کی چیف سلیکٹر صالحہ پروین نے بھی کہا: “عنبر کائنات کو منتخب کرنا ہمارا مستقبل کے لیے سرمایہ کاری ہے، اس نے ڈومیسٹک میں جو مظاہرہ کیا وہ شاندار تھا۔ ہمیں امید ہے کہ وہ بین الاقوامی سطح پر بھی اپنی صلاحیتوں کو ثابت کرے گی۔”

سیریز کے شیڈول کی تفصیل یہ ہے: پہلا ٹی ٹوئنٹی 12 مئی کو شام 7:30 بجے، دوسرا ٹی ٹوئنٹی 14 مئی کو شام 7:30 بجے، اور تیسرا ٹی ٹوئنٹی 15 مئی کو شام 7:30 بجے کھیلا جائے گا۔ تمام میچز نیشنل بینک اسٹیڈیم، کراچی میں ہوں گے۔ ان میچوں کے علاوہ دونوں ٹیموں کے درمیان 2 وارم اپ میچز بھی ہوں گے، حالانکہ ان کی تفصیلات ابھی جاری نہیں کی گئی ہیں۔
اس سیریز کے ساتھ ہی پاکستان ویمنز کی تیاریاں آئندہ ایشیا کپ جو کہ اکتوبر 2026 میں بنگلہ دیش میں ہوگا، اور اس کے بعد ہونے والے آئی سی سی ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 کے لیے عروج پر پہنچ جائیں گی۔ یہ سیریز نہ صرف جیت کے لیے اہم ہے بلکہ ٹیم کی ہم آہنگی اور نوجوان کھلاڑیوں کو موقع دینے کے لیے بھی انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔ شائقین کرکٹ سے گزارش ہے کہ وہ گراؤنڈ آ کر ان ہیروز کی حوصلہ افزائی کریں۔ ٹکٹوں کی قیمتیں بہت مناسب رکھی گئی ہیں، جس میں جنرل انکلوژر کے لیے 100 روپے اور پریمیم انکلوژر کے لیے 500 روپے ہیں۔ ٹکٹ پی سی بی کی ویب سائٹ اور اسٹیڈیم باکس آفس سے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ لائیو اپ ڈیٹس اور سکور کے لیے شائقین پی ٹی وی سپورٹس اور اے سپورٹس چینلز کے علاوہ پی سی بی کی آفیشل یوٹیوب چینل پر بھی لائیو سٹریمنگ دیکھ سکتے ہیں۔ یہ سیریز پاکستان ویمنز کرکٹ کے لیے ایک نیا باب ثابت ہو سکتی ہے، جہاں نوجوان صلاحیتوں کو سنوارنے کے ساتھ ساتھ جیت کی عادت کو بھی فروغ دیا جائے گا۔
